نظم کے پہلے مصرعے کے مطابق شاعر خدا کے دربار میں کیا لایا ہے؟
Question
نظم کے پہلے مصرعے کے مطابق شاعر خدا کے دربار میں کیا لایا ہے؟
ایک کتاب
ایک شکایت
ایک تحفہ
ایک عرض
Answer
ایک عرض
Detailed Explanation
پہلا مصرع ہے: "خدایا! ہم ترے دربار میں اک عرض لائے ہیں"۔ عرض کا مطلب ہے درخواست، یعنی شاعر خدا کے سامنے ایک درخواست یا دعا پیش کر رہا ہے۔ — Examisthan.com