ایک طالب علم اپنے کم زور ہم جماعت کا مذاق اڑاتا ہے۔ نظم "دعا" کا کون سا مصرع اسے سمجھانے کے لیے سب سے موزوں ہے؟
جہاں پھیلا ہوا ہو علم و فن کا ہر طرف چرچا
گزارے زندگی اب قوم اپنی اُن فضاؤں میں
توانا ہوں، مگر آفت نہ ڈھائیں ناتوانوں پر
خدایا! ہم ترے دربار میں اک عرض لائے ہیں