نظم دعا محمد شفیع الدین نیّر کی لکھی ہوئی ہے۔ یہ دعائیہ نظم ہے، یعنی اس میں شاعر خدا سے مخاطب ہو کر دعا مانگتا ہے۔ کتاب کے مطابق یہ نظم ٹیگور کی مشہور کتاب گیتانجلی کے ایک گیت سے متاثر ہو کر لکھی گئی ہے۔
اس نظم میں شاعر نے مل جل کر اور پیار محبت سے رہنے کی دعا مانگی ہے۔ نظم میں لفظ قوم آیا ہے جس سے مراد ایک ملک میں رہنے والے سبھی لوگ ہیں۔ یعنی شاعر کسی ایک گروہ کے لیے نہیں بلکہ پورے ملک کے لوگوں کے لیے دعا کر رہا ہے۔
نظم میں کل سولہ مصرعے یعنی آٹھ شعر ہیں۔ بہت سے مصرعے لفظ جہاں سے شروع ہوتے ہیں۔ اس طرح شاعر ایک ایک کر کے اس مثالی جگہ کی خوبیاں گنواتا ہے جہاں وہ اپنی قوم کو دیکھنا چاہتا ہے۔
| شعر | مطلب |
|---|---|
| شعر 1 | شاعر خدا کے دربار میں ادب سے سر جھکا کر ایک عرض یعنی درخواست پیش کرتا ہے۔ یہاں سرکار سے مراد خدا کا دربار ہے۔ |
| شعر 2 | دعا ہے کہ ملک کے سب لوگ ایسے ماحول میں رہیں جہاں رات دن خوشی ہی خوشی ہو، گویا ہواؤں میں مسرّت ناچ رہی ہو۔ |
| شعر 3 | چھوٹے بڑے سب غیرت مند اور بے خوف ہوں اور اچھی عادتوں اور بھائی چارے کے تارے ہمیشہ چمکتے رہیں۔ |
| شعر 4 | ہر شخص دنیا کا ہم درد اور دکھ درد کا شریک ہو اور ہر طرف علم اور ہنر کا چرچا ہو۔ |
| شعر 5 | سب کی نظر ہر کام کو پورا کرنے پر ہو اور لوگ نفرت اور بے جا طرف داری کے غلام نہ ہوں۔ |
| شعر 6 | لوگ بے کار اور پرانی رسموں کو نہ مانیں اور دل سے انسانوں کی خدمت کی طرف متوجہ ہوں۔ |
| شعر 7 | لوگوں کے عمل اور زبان دونوں میں سچائی ہو۔ وہ طاقت ور ہوں مگر کم زوروں پر ظلم نہ کریں۔ |
| شعر 8 | چھوٹا ہو یا بڑا، سب برابر ہوں اور ہر طرف انصاف اور عدل کا بول بالا ہو۔ |
شاعر خدا سے دعا کرتا ہے کہ اس کے ملک کے لوگ ایک مثالی ماحول میں زندگی گزاریں۔ ایسا ماحول جس میں ہر طرف خوشی ہو، سب لوگ غیرت مند اور بے خوف ہوں، اچھی عادتیں اور بھائی چارا ہمیشہ قائم رہے، ہر شخص دوسروں کا ہم درد ہو اور علم و فن کا چرچا ہو۔
شاعر چاہتا ہے کہ لوگ ہر کام پورا کریں، نفرت، تعصّب اور بے کار پرانی رسموں سے دور رہیں، دل سے انسانوں کی خدمت کریں، کام اور زبان دونوں میں سچے ہوں، طاقت ور کم زوروں پر ظلم نہ کریں، سب برابر ہوں اور انصاف کا بول بالا ہو۔
ایسے دو لفظ جن کی آواز ایک ہو لیکن املا اور معنی الگ ہوں، ہم آواز الفاظ کہلاتے ہیں۔ نظم میں سدا آیا ہے جس کا مطلب ہمیشہ ہے، جب کہ صدا کا مطلب آواز ہے۔
بعض الفاظ کا تلفظ دو طرح سے ہوتا ہے اور دونوں کے معنی الگ ہوتے ہیں۔ خُلق کا مطلب اچھی عادت اور خوش مزاجی ہے اور اس کی جمع اخلاق ہے۔ خَلق کا مطلب دنیا کے لوگ یا مخلوق ہے اور اس کی جمع خلائق ہے۔
کسی لفظ کے شروع میں اگر کوئی اضافہ کیا جائے تو اسے سابقہ کہتے ہیں۔ نظم میں خوف سے پہلے بے لگا کر بے خوف اور درد سے پہلے ہم لگا کر ہم درد بنایا گیا ہے۔
نظم میں متضاد الفاظ کے جوڑے بھی ہیں: توانا (طاقت ور) اور ناتواں (کم زور)، ادنا اور اعلا، چھوٹے اور بڑے۔