1. دعا · Class 6 Urdu
Practise 27 short and long answer questions on 1. دعا from 1. دعا. Try writing your own answer first, then tap the question to compare it with the model answer and read the explanation behind it.
نظم "دعا" کے شاعر محمد شفیع الدین نیّر ہیں۔
شاعر کا نام نظم کے آخر میں درج ہے۔ ٹیگور کا نام لکھنا غلط ہوگا کیوں کہ یہ نظم صرف ان کی کتاب گیتانجلی کے ایک گیت سے متاثر ہو کر لکھی گئی ہے۔
یہ نظم ٹیگور کی مشہور کتاب گیتانجلی کے ایک گیت سے متاثر ہو کر لکھی گئی ہے۔
یہ بات "غور کرنے کی بات" میں دی گئی ہے۔ پورا نمبر کتاب اور مصنف دونوں کا نام لکھنے پر ملے گا۔
لفظ "قوم" سے مراد ایک ملک میں رہنے والے سبھی لوگ ہیں۔
کتاب کے مطابق شاعر کسی ایک گروہ کی نہیں بلکہ پورے ملک کے لوگوں کی بات کر رہا ہے۔ اس لیے جواب میں "سبھی لوگ" کا ذکر ضروری ہے۔
راستی اور صدق دونوں کا معنی سچائی ہے۔
لفظ و معنی میں دونوں الفاظ کا ایک ہی معنی دیا گیا ہے۔ شاعر نے انھیں عمل اور زبان دونوں کی سچائی کے لیے استعمال کیا ہے۔
"توانا" کا متضاد لفظ "ناتواں" ہے۔
توانا کا مطلب طاقت ور اور ناتواں کا مطلب کم زور ہے۔ یہ دونوں الفاظ ایک ہی مصرعے میں آئے ہیں: "توانا ہوں، مگر آفت نہ ڈھائیں ناتوانوں پر"۔
نظم میں "سرکار" سے مراد خدا کا دربار ہے۔ شاعر خدا کی سرکار میں ادب سے سر جھکا کر اپنی قوم کے لیے دعا کرتا ہے۔
یہ سوال کتاب کے "سوچیے اور بتائیے" سے لیا گیا ہے۔ یہاں سرکار کا مطلب حکومت نہیں ہے، کیوں کہ پوری نظم میں شاعر خدا سے مخاطب ہے اور پہلے مصرعے میں "دربار" کا لفظ آیا ہے۔
خُلق کا مطلب اچھی عادت اور اُخوّت کا مطلب بھائی چارا اور محبت ہے۔ تارے چمکنے سے مراد یہ ہے کہ معاشرے میں اچھی عادتیں اور بھائی چارا ہمیشہ روشن اور قائم رہے۔
شاعر نے تاروں کی تشبیہ دی ہے۔ جیسے تارے اندھیرے میں روشنی دیتے ہیں، ویسے ہی اچھے اخلاق اور محبت سماج کو روشن رکھتے ہیں۔ دونوں الفاظ کے معنی اور تشبیہ کی وضاحت پر پورے نمبر ملیں گے۔
نظم میں علم و فن کے پھیلنے کی تمنا کی گئی ہے۔ شاعر چاہتا ہے کہ ہر طرف علم اور ہنر کا چرچا ہو۔
متعلقہ مصرع ہے: "جہاں پھیلا ہوا ہو علم و فن کا ہر طرف چرچا"۔ علم اور فن دونوں کا ذکر ضروری ہے، کیوں کہ شاعر تعلیم کے ساتھ ہنر کو بھی اہم سمجھتا ہے۔
ایسے دو لفظ جن کی آواز ایک ہو لیکن املا اور معنی الگ ہوں، ہم آواز الفاظ کہلاتے ہیں۔ جیسے "سدا" (ہمیشہ) اور "صدا" (آواز)۔
یہ تعریف کتاب کی مشق "پڑھیے، سمجھیے اور لکھیے" میں دی گئی ہے۔ ایک نمبر تعریف کا اور ایک نمبر درست مثال اور اس کے معنی کا ہے۔
کسی لفظ کے شروع میں اگر کوئی اضافہ کیا جائے تو اسے سابقہ کہتے ہیں۔ نظم میں "بے خوف" اور "ہم درد" ایسے الفاظ ہیں جن میں "بے" اور "ہم" سابقے ہیں۔
کتاب بتاتی ہے کہ "خوف" سے پہلے "بے" اور "درد" سے پہلے "ہم" لگا کر نئے الفاظ بنائے گئے ہیں۔ تعریف اور دونوں مثالیں لکھنے پر پورے نمبر ملیں گے۔
خُلق (پیش کے ساتھ) کا مطلب اچھی عادت اور خوش مزاجی ہے، اس کی جمع اخلاق ہے۔ خَلق (زبر کے ساتھ) کا مطلب دنیا کے لوگ یا مخلوق ہے، اس کی جمع خلائق ہے۔
کتاب کی مشق میں یہی مثال دے کر بتایا گیا ہے کہ کچھ الفاظ کا تلفظ دو طرح سے ہوتا ہے اور دونوں کے معنی الگ ہوتے ہیں۔ صحیح اعراب کے ساتھ دونوں معنی لکھنا ضروری ہے۔
دور از کار کا مطلب بے کار اور پرانی ہے۔
یہ سوال "سوچیے اور بتائیے" سے ہے۔ ایک نمبر لفظ کے معنی کا، ایک نمبر ایسی رسموں کی وضاحت کا اور ایک نمبر شاعر کی خواہش بیان کرنے کا ہے۔
عدل کا مطلب انصاف ہے اور بول بالا ہونے کا مطلب ہے غالب اور عام ہونا۔
یہ سوال "سوچیے اور بتائیے" سے ہے۔ جواب میں نظم کے انھی خیالات کو جوڑنا چاہیے: برابری، کم زوروں کی حفاظت اور بے خوف زندگی۔ تین درست فائدوں پر پورے نمبر ملیں گے۔
شاعر ایک خوش گوار اور پر امن ماحول کی دعا کرتا ہے:
جواب نظم کے پہلے تین شعروں پر مبنی ہے۔ خوشی، بے خوفی اور بھائی چارا، ان تینوں نکات کا ذکر ضروری ہے۔
شاعر لوگوں میں کئی اچھی صفات دیکھنا چاہتا ہے:
نظم میں ان کے علاوہ خودداری، بے خوفی اور ہر کام کو پورا کرنے کی عادت کا بھی ذکر ہے۔ کوئی بھی تین صفات نظم کے حوالے سے لکھنے پر پورے نمبر ملیں گے۔
توانا کا مطلب طاقت ور اور ناتواں کا مطلب کم زور ہے۔
اس مصرعے میں طاقت کے ساتھ رحم دلی کی تعلیم دی گئی ہے۔ معنی، شاعر کی خواہش اور اس کا پیغام تینوں حصے لکھنے ضروری ہیں۔
تعصّب کا مطلب بے جا طرف داری ہے۔
جواب کا تعلق مصرعے "جہاں بندے نہ ہوں افراد نفرت اور تعصّب کے" سے ہے۔ لفظ کا معنی اور شاعر کے مثبت متبادل خیالات کا ذکر نمبر دلاتا ہے۔
نظم "دعا" محمد شفیع الدین نیّر کی ایک دعائیہ نظم ہے جو ٹیگور کی گیتانجلی کے ایک گیت سے متاثر ہے۔
مرکزی خیال میں نظم کی قسم، شاعر کی دعا اور اس کے اہم نکات (خوشی، بھائی چارا، علم، سچائی، برابری اور انصاف) آنے چاہییں۔ صرف ایک دو نکات لکھنے پر کم نمبر ملیں گے۔
شاعر ایک مثالی سماج کا خواب دیکھتا ہے۔
جواب میں نظم کے تمام اہم خیالات ترتیب سے آنے چاہییں۔ ہر نکتے کو نظم کے کسی مصرعے سے جوڑنا اچھے جواب کی نشانی ہے۔
نظم ہمیں مل جل کر، پیار محبت سے اور انصاف کے ساتھ رہنے کا سبق دیتی ہے۔
اس سوال میں طالب علم کو نظم کے پیغام کو اپنی زندگی سے جوڑنا ہے۔ نمبر نظم کے درست سبق اور مناسب مثالوں پر ملیں گے۔
کتاب میں نظم کے بعد دو عملی کام دیے گئے ہیں۔
دونوں سرگرمیاں کتاب کے "عملی کام" سے ہیں۔ فائدے طالب علم کی اپنی سمجھ پر مبنی ہو سکتے ہیں، لیکن سرگرمیوں کا درست ذکر ضروری ہے۔
برابری اس نظم کا ایک اہم خیال ہے۔
اچھے جواب میں نظم کے کم سے کم تین مصرعوں کو برابری کے خیال سے جوڑا جائے گا۔
یہ شعر نظم "دعا" سے لیا گیا ہے۔
ہر حصے کا ایک نمبر ہے۔ مفہوم میں "تارے" کی تشبیہ کی وضاحت جواب کو مکمل بناتی ہے۔
یہ شعر نظم "دعا" کا ہے جس میں شاعر سماج کی بہتری کی دعا کرتا ہے۔
پہلے تین حصے کتاب کے متن اور لفظ و معنی پر مبنی ہیں۔ چوتھے حصے میں کوئی بھی مناسب مثال قبول کی جائے گی۔
یہ نظم "دعا" کا آخری شعر ہے۔
ہر حصے کا ایک نمبر ہے۔ آخری حصے میں برابری اور انصاف دونوں خیالات کا ذکر ضروری ہے۔
یہ نظم "دعا" کے ابتدائی اشعار ہیں۔
ہر حصے کا ایک نمبر ہے۔ حصہ (iii) میں دونوں الفاظ کی وضاحت ضروری ہے۔
یہ صورت حال نظم کے پیغام کے خلاف ہے۔
پہلے تین حصے نظم پر مبنی ہیں۔ چوتھے حصے میں ایسا کوئی بھی جواب قبول ہے جو بھائی چارے اور برابری کو ظاہر کرے۔